حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، خبر رساں ادارے آناتولی کے حوالے سے، ڈچ روزنامے De Volkskrant کے دو صحافی، اِفتنگ اور فینسترا، اپنی تحقیقی رپورٹ "زخم کیا بیان کرتے ہیں" کے باعث یورپی صحافتی ایوارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ انہوں نے اس موقع پر زور دیا کہ دنیا غزہ میں پیش آنے والے واقعات سے بے اعتنائی نہ برتے اور رپورٹ میں پیش کیے گئے شواہد پر توجہ دے۔
ان دونوں صحافیوں نے کہا کہ وہ اس اعزاز کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی اور حساس و مشکل موضوعات پر تحقیقاتی صحافت جاری رکھنے کے لیے حوصلہ افزائی سمجھتے ہیں۔
اِفتنگ نے بتایا کہ چونکہ صحافیوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت نہیں تھی، اس لیے انہوں نے ان ڈاکٹروں سے گفتگو کرنے کا فیصلہ کیا جو غزہ میں موجود آخری بین الاقوامی عینی شاہدین شمار ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا: "میری امید ہے کہ غزہ میں جو کچھ ہوا ہے، خصوصاً عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے واقعات، مزید توجہ حاصل کریں گے۔ ہم نے غزہ کو ڈاکٹروں کی نگاہ سے دیکھنے کا فیصلہ کیا اور تحقیق کا آغاز یہیں سے ہوا۔ ہماری گفتگو کا بنیادی سوال یہ تھا کہ انہوں نے کتنے ایسے پندرہ سال یا اس سے کم عمر بچوں کو دیکھا جنہیں سر یا سینے میں ایک ہی گولی مار کر زخمی یا ہلاک کیا گیا ہو۔"
اِفتنگ کے مطابق رپورٹ میں جمع کیے گئے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچوں کے زخموں کی نوعیت نشانہ لے کر کی گئی فائرنگ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: "میرا خیال ہے کہ لوگوں کو اس رپورٹ کا دوبارہ مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ غزہ میں بچوں کو نشانہ بنائے جانے اور وہاں رونما ہونے والے واقعات کی حقیقت سے آگاہ ہو سکیں۔"
فینسترا نے کہا کہ غزہ سے واپس آنے والے تقریباً تمام ڈاکٹروں کو یہ احساس تھا کہ وہ جو کچھ دیکھ کر آئے ہیں، اسے دنیا تک پہنچانا ان کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا: "وہ بطور معالج مریضوں کی مدد کے لیے غزہ جاتے ہیں، لیکن جب وہ وہاں کی المناک صورتحال کو قریب سے دیکھتے ہیں تو انہیں احساس ہوتا ہے کہ صرف طبی خدمات کافی نہیں، بلکہ وہ ان واقعات کے گواہ بھی ہیں اور انہیں دنیا کے سامنے حقائق بیان کرنے چاہئیں۔"
فینسٹرا کے مطابق بعض ڈاکٹروں کے ساتھ کئی کئی گھنٹے گفتگو کی گئی اور ان سے اپنی باتوں کے ثبوت پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں تصاویر، ویڈیوز، طبی ریکارڈ، علاجی نوٹس اور دیگر دستاویزات جمع کی گئیں۔
انہوں نے امریکی ڈاکٹر سیدھوا Feroze Sidhwa کا بھی ذکر کیا، جو اس تحقیق کے اہم ذرائع میں شامل تھے۔ ان کے بقول ڈاکٹر سیدھوا نے غزہ میں خدمات انجام دینے والے ساٹھ سے زائد امریکی ڈاکٹروں کو سوالنامہ ارسال کیا تھا جس میں بھوک، گولیوں سے زخمی بچوں اور دیگر انسانی حالات کے بارے میں معلومات طلب کی گئی تھیں۔
فینسٹرا نے کہا کہ غزہ سے متعلق مباحث دنیا بھر کی طرح ہالینڈ میں بھی شدید اختلاف کا شکار ہیں، اس لیے انہیں ابتدا ہی سے معلوم تھا کہ اس موضوع پر کام کرنے کے باعث انہیں سخت تنقید اور باریک بینی سے جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے بتایا: "ہم نے اپنے تمام ذرائع کی حتی المقدور مکمل جانچ پڑتال کی۔ ہمیں موصول ہونے والی تصاویر اور دستاویزات کا جائزہ لیا گیا اور ماہرین سے بھی مدد حاصل کی گئی۔ چونکہ ہم فرانزک میڈیسن کے ماہر نہیں ہیں، اس لیے صرف ایک طبی تصویر دیکھ کر زخم کی نوعیت یا گولی لگنے کے انداز کے بارے میں حتمی رائے قائم نہیں کر سکتے تھے۔"
ان کے مطابق طبی تصاویر اور زخموں کے نمونوں کا تجزیہ کرنے کے لیے ہالینڈ اور بیلجیم کے دو فرانزک ماہرین کے علاوہ ڈچ فوج کے متعلقہ ماہرین سے بھی مشاورت کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ان تمام تحقیقات اور تصدیقی مراحل کے باوجود، غزہ میں بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے سے متعلق ان کی رپورٹ کو مختلف حلقوں کی تنقید اور ردِعمل کا سامنا ہے۔
فینسٹرا نے آخر میں کہا کہ حساس موضوعات پر رپورٹنگ کرنے والے ذرائع ابلاغ کو اکثر دباؤ اور حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ مسئلہ صرف غزہ تک محدود نہیں۔
انہوں نے کہا: "اگر آپ حساس موضوعات پر تحقیقاتی رپورٹنگ کرنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ آپ کے میڈیا ادارے کی مکمل حمایت آپ کو حاصل ہو، اور خوش قسمتی سے ہمیں اپنے ادارے کی یہ حمایت میسر تھی۔"









آپ کا تبصرہ